عصر حاضر

قسم کلام: اسم ظرف زماں

معنی

١ - موجودہ زمانہ، دور حاضر۔ "ہر شاعر خود کو عصرِ حاضر کا ترجمان کہتا ہے۔"      ( ١٩٨١ء، حصار انا، ١٠ )

اشتقاق

عربی زبان سے مشتق اسم 'عصر' بطور موصوف لگا کر عربی ہی سے مشتق اسم صفت 'حاضر' لگانے سے مرکب توصیفی 'عصر حاضر' بنا۔ اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے اور سب سے پہلے ١٩٣٥ء کو "بالِ جبریل" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - موجودہ زمانہ، دور حاضر۔ "ہر شاعر خود کو عصرِ حاضر کا ترجمان کہتا ہے۔"      ( ١٩٨١ء، حصار انا، ١٠ )

جنس: مذکر